قرآن و حدیث کی روشنی میں جمعہ کے فضائل
ایمانی غیرت کا ثبوت دیجئے اور بلیک فرائی ڈے لکھنے والوں کا بائیکاٹ کیجیے
قرآن پاک کی مکمل سورت کا نام سورہ جمعہ ہے
(نبی ﷺ کی امت کو جمعہ کا دن عنایت فرمایا گیا (صحیح مسلم
(جمعہ کی حیثیت عام دنوں میں ایسی ہے جیسے رمضان کی فضیلت عام مہینوں میں ہے-(زاد المعاد)
(بہترین دن جس پر سورج طلوع نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے (ابو ہریرہ -صحیح مسلم
(اس جمعہ کے دن میں ایک ایک وقت ایسا ہے جس میں دعا کی قبولیت یقینی ہے ،( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، بخاری و مسلم
” عام دنوں کے صدقے سے جمعہ کے دن کا صدقہ بہتر ہے ـ جس طرح کہ عام مہینوں کے صدقہ سے رمضان میں صدقہ کی فضیلت زیادہ ہے
(کعب رضی اللہ عنہ)
اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے اس کو عید کا دن بنایا ہے(عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،ابن ماجه وهو في صحيح الترغيب:1/298
(اس دن گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (سلمان فارسی رضی اللہ عنہ-البخاري
جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جانے والے کو ہر قدم کے بدلے ایک سال کے صیام و قیام کا ثواب ملتا ہے
(اوس بن اوس رضی اللہ عنہ-أحمد وأصحاب السنن وصححه ابن خزيمة-صححه الالباني-صحيح الترغيب -693)
جمعہ کے سوا روزانہ جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور یہ جمعہ کی عزت و عظمت کے احترام میں ہے [زاد المعاد:1/387]
]جو کوئی مسلمان جمعہ کی رات یا دن میں وفات پاتا ہے اللہ تعالٰی اس کو عذاب قبر سے بچاتا ہے [ مسند أحمد والترمذي
تمام دنوں میں افضل ترین دن جمعہ کا دن ہے- تم جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو ، کیونکہ تمہار درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ”
[ مسند أحمد وأصحاب السنن وصححه النووي وحسنه المنذري]
(تم میں سے کوئی شخص نماز جمعہ کے لئے آئے تو وہ ضرور غسل کرکے آئے (بخاری و مسلم
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :جمعہ کے دن خوشبو لگانا ، مسواک کرنا ، اچھے کپڑے پہننا جمعہ کے آداب میں سے
ہے ، جس نے جمعہ کا غسل ، خوشبو (میں جو میسرہو) لگائی ، اور اچھا لباس زیب تن کیا ، سکون کے ساتھ مسجد گیا ، پھر نفل نماز پڑھی ، اور کسی کو
تکلیف نہیں دی ، امام کے آتے ہی خاموش رہا یہاں تک کہ نماز ہوگئی ، تو وہ عبادت اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو گی جو ان دو جمعہ کے درمیان ہو چکے ہیں احمد وصححه ابن خزيمة
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں