سوال :کیا جنت وجہنم کا وجود ہے یا صرف ڈر پیدا کرنے کے لیے جنت جہنم کا تذکرہ کیا جاتا ہے ؟
جواب : اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی مقامات پر جنت و جہنم کی تخلیق کے حوالے سے ماضی کا صیغہ استعمال کیااورفعل ماضی(گزشتہ زمانے میں) کسی کام کے ہوجانے کو بیان کرتا ہے۔جہنم کے حوالے سے فرمایا:
[فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ ][البقرۃ : 24]’’
اگر تم یہ (قرآن جیسی سورت کا چیلنج پورا) نہ کرسکے اور ہر گز تم نہیں کرسکتے تو پھر جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، جوکہ کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘[البقرۃ : 24]۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
[وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ [آل عمران: 131]’’
اس آگ سے ڈرو جو کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘
‘[اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ، لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ بًا [النباء: 21 - 22]’’
جہنم یقینا ایک گھات ہے،جو سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔‘‘جنت کے حوالے سے فرمایا:
[ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ [آل عمران: 133]’’
اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان متقین لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ایک مقام پر فرمایا:
[سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ] [الحديد: 21]’’
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کی وسعت آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘دوسری دلیل:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کا تذکرہ قرآن نے بیان کیا اور جنت کے وجود کا بھی اثبات کیا ۔’’اور ایک مرتبہ اور بھی اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )نے اس (جبریل) کو ،سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، جس کے پاس یہی جنت الماوٰی ہے۔‘‘تیسری دلیل: فرعونیوں کو قبر میں دئیے جانے والے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
[اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ] [المومن: 46]’’
وہ صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں۔‘‘قرآن مجید کی ان تمام آیات اور اس مفہوم کی بکثرت آیات سے جنت و جہنم کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اس لیے ہماراعقیدہ ہے کہ جنت اور جہنم کاوجودہوچکا ہے ناکہ صرف لوگوں کو ڈرانے کےلیے ان کا ذکرکیا جاتاہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں