اشاعتیں

Fiqahi Masaeil

تصویر
ہ ر اچھے کام سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنا باعث برکت ورحمت ہے۔کہ اس سے اُخروی ثواب کے ساتھ ساتھ دنیوی برکتیں  بھی حاصل ہوتی ہیں۔لیکن اس کے برعکس اچھے کام سے پہلے بِسْمِ اللہ شریف نہ پڑھنابے برکتی ومحرومی کا سبب ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ” جوبھی اہم کام بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ساتھ شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتاہے ” ۔ الدرالمنثور، جلد 1،صفحہ 26 لہذاکھانے کھلانے،پینے پلانے ، رکھنے اُٹھانے، دھونے پکانے ، پڑھنے پڑھانے، چلنے (گاڑی وغیرہ)چلانے ، اُٹھنے اٹھانے، بیٹھنے بٹھانے، بتّی جلانے، پنکھا چلانے، دسترخوان بچھانے بڑھانے، بچھونا لپیٹنے بچھانے، دکان کھولنے ،بند کرنے، تالا کھولنے لگانے، تیل ڈالنے، عطرلگانے، جوتی پہننے ، دروازہ کھولنے بند فرمانے، الغرض ہر جائز کام کے شروع میں بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے کی عادت بنا کر اس کی برکتیں  لوٹنا عین سعادت ہے۔ نیکیاں ہی نیکیاں حضرت سیدناابن مسعودرضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روا یت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان فرحت نشان ہے، ...

Special Course For Children, FROM Ibraheem Academy

تصویر
 

سب سے پہلے انسانوں کی جوڑی کون سی تھی؟

  سوال : مسلمانوں کے مطابق سب سے پہلے انسانوں کی جوڑی حضرت آدم اور حوا علیہما السلام ہیں ۔ لیکن سائنس اس کونہیں مانتی  ثابت کیجیے ۔   قرآن پاک سائنس کی کتاب نہیں ہے ۔ یہ آیات کی کتاب ہے۔ یہ نشانیوں کی کتاب ہے۔ قرآن پاک میں  سائنس کے فارمولے نہیں ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس کی تحقیقات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ لہذا شریعت اسلام کادارومدار سائنس پرنہیں ہے۔ سائنس پہلے قرآن پاک میں ذکرکی گئی کئی چیزوں کوتسلیم نہیں کرتی  تھیں لیکن آج سائنس ترقی کرنے کےبعد قرآن پاک کی اکثر چیزوں کو مانتی ہے۔ہوسکتاہے چند سال بعدسائنس آخرت ،جنت، جہنم کوبھی تسلیم کرلے۔ اسی طرح حضرت آدم اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کیجوڑی کو سب سے پہلی جوڑی مان لے گی۔صحیح مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ سورج طلوع ہونے والے دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیداہوئے اوراسی دن جنت میںداخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی -( حیات آدم علیہ السلام(ماخوذازمسند احمد و ابن کثیر ج1 ص127)  اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اسی دن حضرت ا...

قرآن و حدیث کی روشنی میں جمعہ کے فضائل

ایمانی غیرت کا ثبوت دیجئے       اور          بلیک فرائی ڈے لکھنے والوں کا بائیکاٹ کیجیے      قرآن پاک کی مکمل سورت کا نام سورہ جمعہ ہے (نبی  ﷺ کی امت کو جمعہ کا دن عنایت فرمایا گیا   (صحیح مسلم  (جمعہ کی حیثیت عام دنوں میں ایسی ہے جیسے رمضان کی  فضیلت عام مہینوں میں ہے- (زاد المعاد)  (بہترین دن جس پر سورج طلوع نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے (ابو ہریرہ -صحیح مسلم (اس جمعہ کے دن میں ایک ایک وقت ایسا ہے جس میں دعا کی قبولیت یقینی ہے ،( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، بخاری و مسلم ” عام دنوں کے صدقے سے جمعہ کے دن کا صدقہ بہتر ہے ـ جس طرح کہ عام مہینوں کے صدقہ سے رمضان میں صدقہ کی فضیلت زیادہ ہے  (کعب رضی اللہ عنہ) اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے اس کو عید کا دن بنایا ہے(عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،ابن ماجه وهو في صحيح الترغيب:1/298 (اس دن گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (سلمان فارسی رضی اللہ عنہ-البخاري جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جانے والے کو ہر قدم کے بدلے ایک سال کے صیام و قیام کا ثواب ملتا ہے (اوس بن اوس رضی اللہ ...

سوال :کیا جنت وجہنم کا وجود ہے یا صرف ڈر پیدا کرنے کے لیے جنت جہنم کا تذکرہ کیا جاتا ہے ؟

تصویر
جواب :     اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی مقامات پر جنت و جہنم کی  تخلیق کے حوالے سے ماضی کا صیغہ استعمال کیااورفعل ماضی(گزشتہ زمانے میں) کسی کام کے ہوجانے کو بیان کرتا ہے۔جہنم کے حوالے سے فرمایا: [فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ  ][البقرۃ : 24 ]’’   اگر تم یہ (قرآن جیسی سورت کا چیلنج پورا) نہ کرسکے اور ہر گز تم نہیں کرسکتے تو پھر جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، جوکہ کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘[البقرۃ : 24]۔   ایک اور مقام پر فرمایا: [وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ  [آل عمران: 131]’ ’  اس آگ سے ڈرو جو کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘ ‘[اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ، لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ بًا   [النباء: 21 - 22]’ ’ جہنم یقینا ایک گھات ہے،جو سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔‘‘جنت کے حوالے سے فرمایا: [ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ ...

حضرت ابو دجانہ کا ایک عجیب واقعہ ..بچےکہیں چور نہ بن جائیں

تصویر
  حضرت ابو دجانہ کا ایک عجیب واقعہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہﷺ كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى  مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہﷺ كى نظريں ابودجانہ كا پيچھا كرتيں ، جب ابودجانہ كا يہى معمول رہا تو ايك دن رسول اللہﷺ نے ابودجانہ كو روك كر پوچھا :  ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟  ابودجانہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسولﷺ، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى (بے پروا) نہيں ہوسكتا۔۔۔  رسول اللہﷺ فرمانے لگے، تو پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے ليے دعا كيوں نہيں كرتے؟  ابودجانہ  كہنے لگے اے اللہ كے رسولﷺ! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايك يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب  رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس ليے جلدى نكلتا ہوں تاكہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو ...